قتل کے مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد آخری منٹ میں روک دیاگیا
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے دوران ڈکیتی دکان دار کو قتل کرنے کے مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد آخری منٹ میں روک دیا۔ نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق 47سالہ روبن گوٹریز نے دو ساتھیوں کے ہمراہ ریاست ٹیکساس کے شہر براﺅنز ول میں ایسکولاسٹیکا ہیریسن نامی شخص کو قتل کیا تھا، جو موبائل ہوم پارک پر بطور منیجر کام کرتا تھا۔
عدالت کی طرف سے روبن گوٹریز کے دونوں ساتھیوں کو عمر قید جبکہ روبن کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جس پر گزشتہ دنوں عملدرآمد کی نوبت آئی تو سپریم کورٹ کی طرف سے جیل انتظامیہ کو اس سے روک دیا گیا۔ مجرم کی طرف سے عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل اپنی بے گناہی پر اصرار جاری رہا اور اب بھی اس کے وکلاءنے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے، جس میں مرنے والے شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جیل حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ مجرم کے وکلاءکی پٹیشن پر فیصلہ آنے تک اس کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا جائے۔ واضح رہے کہ روبن گوٹریز کو زہریلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کے لیے مخصوص چیمبر میں لیجایا جا چکا تھا جب سپریم کورٹ کی طرف سے اس کی سزا عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم نامہ آیا۔


Comments
Post a Comment